"Adhoory Khawab" an Urdu short story Written by Wajid Ali. The story revolves around loyalty of a girl.
ادھورے خواب ۔ (واجد علی) بیٹا اب اٹھ جاؤ، دیکھو تو پورے آٹھ بج چکے ہیں۔ کتنی بار کہا ہے کہ رات کو جلدی سو جایا کرو۔ مگر مجال ہے کہ میری بات مانو۔ اچھا امی اٹھ رہا ہوں، کیا ہو گیا ہے آپ کو، کتنی ظالم ہیں آپ، کبھی نہیں سکون سے سونے دیتیں۔ اور پھر ہمیشہ کی طرح کمرا اس کے خراٹوں کی آواز سے گونجنے لگا۔ وہ بچپن سے ہی ایسا تھا۔ شرارتی، لاپرواہ، مگر ہر جگہ محبت بانٹنے والا۔ سر کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ سیف نے چہرے پر معصومیت لاتے ہوئے پوچھا۔ سیف اللہ! تم آج پھر لیٹ ہو۔ سوری سر! وہ دراصل یونیورسٹی آتے ہوئے بائیک کا ٹائر پنکچر ہو گیا تھا، اس لیے دیر ہو گئی۔ پھر وہی بہانہ! سیف اللہ مہینے میں کتنی بار تمہاری بائیک پنکچر ہوتی ہے؟ سر زیادہ نہیں، بس یہی کوئی بیس پچیس مرتبہ۔ ہاہا! بے شرم انسان۔ اچھا آجاؤ اندر۔ سر حسن آج اچھے موڈ میں تھے۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی اس کی نظریں آمنہ کی تلاش میں روگرداں ہوئیں۔ اس کی آنکھوں میں بے چینی واضح دکھائی دی رہی تھی۔ اور وہ بے چین کیوں نا ہوتا، آمنہ اس کے دل کی رانی، اس کا چین سکون سب کچھ وہی تھی۔ اور پھر آمنہ کو د...

I hope this poem will be a source of inspiration for those who seek affection and live for dreams.
ReplyDeleteThank you
Regards: Zoya Zahid.
Yes, you're right. It's a good inspirational poem. Nd I appreciate your work.
ReplyDelete